بھٹکل:یکم ڈسمبر(ایس اؤ نیوز)میں پچھلے تیس برسوں سے بی جےپی کا سرگرم کارکن رہتے ہوئے پارٹی کے لئے کام کرتارہا ہوں۔ میں بی جےپی کا وفادار سپاہی ہوں۔ لیکن مجھے ودھان پریشد کا ٹکٹ نہیں دیاگیاہے۔ میں پارٹی کارکنان کی آواز بن کر ودھان پریشد انتخابات میں بی جےپی باغی امیدوار کے طورپر میدان میں اتر رہا ہوں، اس بات کا اعلانودھان پریشد انتخابات کے امیدوار دتاتریہ نائک نےکیا۔
پرائیویٹ ہوٹل میں پریس کانفرنس سے بات کرتےہوئے انہوں نے کہاکہ بی جےپی میں اس وقت جو کچھ ہورہاہے اس سے 70 سے 80فی صد کارکنان ناراض ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ناراض پنچایت ممبران اس انتخابات میں مجھے ووٹ دیں گے اور چونکہ میں بی جےپی میں سرگرم رہا ہوں اسلئے امید ہے کہ اس وجہ سے دوسری ترجیح کا ووٹ بھی مجھے ملے گا ۔ دتاتریہ نائک نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ کانگریس کو پہلی ترجیح دیں گے وہ سب مجھے دوسری ترجیح کا ووٹ دیں گے اور اس طرح میری تاریخی جیت یقینی ہے۔
انہوں نےکہاکہ جمہوریت میں رائے دہی ہی اہم ہوتی ہے۔ پیسہ تقسیم کرکے ووٹ حاصل کرنےکی روایت کا خاتمہ ہوگا اور جیت ہونےکا یقین جتایا۔ دتاتریہ نےکہاکہ مجھے پنچایت ممبران کےمسائل سے آگہی ہے ، اگر میری جیت ہوتی ہے تو پنچایت ممبران کو ماہانہ 3000کا اعزازیہ اور پنشن کےلئے حکومت پر دباؤ بناؤنگا۔ اسی طرح ضلع کے اتی کرم داروں کے مسائل کے متعلق بھی آوازاٹھانےکی بات کہی۔ پریس کانفرنس میں میونسپالٹی ممبر پاسکل گومس، وکیل گنگادھر نائک وغیرہ موجود تھے۔